میرپور(اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 10 دسمبر 2014ء)جمعیت علماء جموں
وکشمیر کے صدر و آستانہ عالیہ فیض پور شریف کے سجادہ نشین مولانا پیر محمد
عتیق الرحمن(MLA) نے کہا ہے کہ قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی
صدیقی ملت اسلامیہ کا وہ رجلِ عظیم تھے کہ جنہوں نے تحریک پاکستان تحریک ختم
نبوت استحکام پاکستان میں گرانقدر کردار ادا کیا اور1970 کے انتخابات میں
ممبرقومی اسمبلی منتخب ہو کر بے شمار دباؤ کی پرواہ کیے بغیراپنے رفقاء
علامہ پیر محمد کرم شاہ الازہری، علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری،مولانا سید محمد
علی رضوی،مولانا محمد ذاکر، پروفیسر ڈاکٹر شاہ فریدالحق ،مسٹر ظہور الحسن
بھوپالی کے ہمراہ ڈھاکہ پہنچے اورا ستحکام پاکستان کیلئے آواز اٹھائی صدر
پاکستان (وقت)جنرل محمد یحیٰ خان سے پارٹی ہیڈ کی میٹنگ کے دوران واضح کیا
کہ پاکستان توڑنے کی سازش تیار ہو چکی ہے پاکستان کی بقاء کیلئے موثر
اقدامات اٹھائے جانے چاہیے ، ڈھاکہ سے واپسی کے موقع پرخان عبدالولی خان
اور چوہدری ظہور الہی نے بھی اپنے اخباری بیانات میں اظہار کیا کہ علامہ
شاہ احمد نورانی نے بھری میٹنگ میں صدر پاکستان کی آنکھوں میں آنکھیں
ڈالکرجو زور دار بات کی وہ انہی کا خاصہ ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی  کے 11 ویں عرس کے موقع پردا رالعلم و العمل
نقشبندیہ مجددیہ ، قادریہ ،محبوبیہ خالق آباد میں منعقد ہ اجتماع سے خطاب
کرتے ہوئے کیا ، روحانی تقریب کی صدارت ادارہ کے مہتمم علامہ پیر سید محبوب
حسین شاہ نے کی ،جبکہ تقریب سے جماعت اہل سنت جموں وکشمیر کے ناظم اعلیٰ
علامہ سید غلام یٰسین شاہ گیلانی ، جماعت کے مرکزی راہنما علامہ قاری
ذوالفقار احمد صدیقی ، علامہ مولانا محمد محفوظ چشتی و دیگر مقررین نے بھی
خطاب کرتے ہوئے مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی  کی قومی ، ملی و دینی خدمات
کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ، مہمان خصوصی مولانا پیر محمدعتیق
الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی خلیفہ اول حضرت
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے تھے انہیں یہ اعزاز حاصل
ہے کہ انہوں نے قرآن مجید حرم نبوی میں حفظ کیا تھا اور تواتر کے ساتھ ہر
سال ماہ رمضان میں دیگر مصروفیات کو چھوڑ کر نماز تراویح میں قرآن
مجیدسناتے تھے اور اپنے وصال سے پہلے زندگی کی آخری تراویح ا ٓستانہ عالیہ
فیض پور شریف میں پڑھائی اور تفصیلی خطاب بھی کیا، مولانا پیر محمد عتیق
الرحمن نے کہا کہ 1973 کے آئین کی تیاری میں بھی مولانا شاہ احمد نورانی
صدیقی  نے اہم کردار ادا کیاپاکستان کانام اسلامی جمہوریہ پاکستان ،
پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام اور آئندہ سات سال کے اندر تمام قوانین کو
قرآن وسنت کے سانچے میں ڈھالنے جیسی شقوں کو تسلیم کروایا ، 1974 میں جب
ربوہ ریلوے اسٹیشن پرقادیانی مسلم نوجوانوں پر حملہ آور ہوئے تو ایک زور
دار تحریک چلی علامہ شاہ احمد نورانی اس وقت مدینہ منورہ میں تھے انہوں نے
وہاں یہ اطلاع ملتے ہی دنیا بھر سے آئے ہوئے مقتدر علماء کا اجلاس منعقدکیا
اور اتفاق رائے سے مرزا غلام احمد قادیانی کو مرتد اور اس کے تمام
پیروکاروں کو غیر مسلم قرار دیا اور یہ مسودہ لیکر علامہ شاہ احمد نورانی
صدیقی  واپس پاکستان پہنچے اور اس وقت کے وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی
بھٹو سے میٹنگ کی اس میٹنگ میں مسٹر یحیٰ بختیاراور مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ
جو ابھی بقیدحیات ہیں بھی شریک تھے، علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے اس
میٹنگ میں عقیدہ ختم نبوت پر تفصیلی گفتگو کی اور قادیانیوں کے خطرناک
عزائم سے انہیں آگاہ کیا اس موقع پرتمام دینی و مذہبی جماعتوں نے بھی عقیدہ
ختم نبوت کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کا عہد کیا اور اپوزیشن کی جانب سے
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کیلئے متفقہ قرار داد پارلیمنٹ میں
پیش کرنے کا شرف علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی  کو حاصل ہوا،اور اسمبلی میں
اس موضوع پر تاریخی فیصلہ کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان (وقت) مسٹر
ذوالفقار علی بھٹو نے کمال بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وقت کے قادیانی
جماعت کے سربراہ مرزا ناصر اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کی
دوسری جماعت المعروف لاہوری جماعت کے امیر صدرالدین کو بھی پارلیمنٹ میں
لایا گیا اوران دونوں کی موجودگی میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مرتد اور
اس کو نبی یا مجدد ماننے والوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ،مولانا پیر
محمد عتیق الرحمن نے کہا کہ چند ہی روز بعد اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار
علی بھٹو نے علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی  سے بات کی کہ باہر کی دنیا میں
قادیانی تاریخی قرارداد کی منظوری کے بعد غلط تاثر دے رہے ہیں علامہ شاہ
احمد نورانی صدیقی  نے کہا کہ اس کا ازالہ ہم کریں گے اورچند روز کے بعد
علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت میں ایک قافلہ بیرون ملک روانہ ہوا اس میں
مجاہد ملت مولان محمد عبدالستار خان نیازی ، پروفیسر ڈاکٹر شاہ فرید الحق ،
اور علامہ ارشد القادری بھی شامل تھے انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں
عقیدہ ختم نبوت اورقادیانیوں کی کذب بیانی کو بے نقاب کیا ،پیر محمد عتیق
الرحمن نے کہا کہ میری علامہ شاہ احمد نورانی سے 30 سال رفاقت رہی اور
بلاشبہ وہ اہل سنت کے مسلمہ قائد اور دنیا سلام کے رجلِ عظیم تھے انہوں نے
مفتی اعظم فلسطین کے ہمراہ مختلف ممالک کے دورے کرکے مسجد اقصیٰ کی آزادی
کیلئے بھی جدوجہد کی اور تحریک آزادی کشمیر کیلئے بھی انہوں نے ہمیشہ
کشمیریوں کی بھرپور حمایت کی اور آزادکشمیر کے اکثر مقامات پرجا کر کلمہ حق
بلند کیا ان کے ہاتھوں پر دنیا کے مختلف مقامات پر لاتعداد غیر مسلموں نے
اسلام قبول کیا وہ دنیا سے جاتے ہوئے ایک روشن فکر دیکر رخصت ہوئے جس کی
چمک ہمیشہ رہے گی ۔ علامہ شاہ احمد نورانی کے وصال کے بعد میرپور میں جب
تعزیتی ریفرنس کا انعقاد ہوا اس میں تحریک پاکستان کے ممتاز راہنمااور
ادارہ نوائے وقت کے سربراہ امام صحافت ڈاکٹر مجید نظامی  کا خصوصی تعزیتی
پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے مولانا شاہ احمد نورانی کی دنیا
بھر میں دین کی تبلیغ و اشاعت اور شاندار خدمات کا بطور خاص ذکر کیا تھا
،روحانی تقریب کے آخر میں مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی  کے بلندی درجات،
پاکستان کی ترقی و استحکام اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے خصوصی دعا کی گئی ۔

Advertisements